FLOATING BODIES 9th CLASS-SUMMARY
سبق: تیرنے والے اجسام
🔹 اہم اصطلاحات
- تیرنے والے اجسام (Floating Bodies)
- اچھال (Buoyancy)
- قوت اچھال (Buoyant Force)
- کثافت (Density)
- نسبتی کثافت (Relative Density)
- ارشمیدس کا اصول (Archimedes’ Principle)
- وزن (Weight)
- چھلکنے والا پانی (Displaced Water)
- حجم (Volume)
- کمیت (Mass)
- تیرنا (Floating)
- ڈوبنا (Sinking)
- لیکٹومیٹر (Lactometer)
- مائع (Liquid)
- سیال (Fluid)
📖 اہم تعریفیں
1. تیرنے والا جسم
وہ جسم جو کسی مائع کی سطح پر رہتا ہے اور مائع کی طرف سے حاصل ہونے والی شناوری قوت اس کے وزن کو متوازن کرتی ہے، تیرنے والا جسم کہلاتا ہے۔
جسم اس وقت پانی پر تیرتا ہے جب پانی کی طرف سے اوپر کی سمت لگنے والی قوت اچھال جسم کے وزن کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔
2. اچھال
مائع میں ڈوبے ہوئے جسم پر مائع کی طرف سے اوپر کی سمت لگنے والے اثر کو اچھال کہتے ہیں۔
3. قوت اچھال
مائع میں ڈوبے ہوئے جسم پر مائع کی طرف سے اوپر کی طرف لگنے والی قوت کو قوت اچھال کہتے ہیں۔
4. کثافت
کسی مادے کی فی اکائی حجم کمیت کو کثافت کہتے ہیں۔
{کثافت}={کمیت}\{حجم}
5. نسبتی کثافت
کسی مادے کی کثافت اور پانی کی کثافت کے تناسب کو نسبتی کثافت کہتے ہیں۔
{نسبتی کثافت}
{مادے کی کثافت}}
{پانی کی کثافت}
نسبتی کثافت کو کسی مادے کی کثافت اور حوالہ جاتی مادے، عموماً پانی، کی کثافت کے تناسب کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
6. ارشمیدس کا اصول
جب کسی جسم کو کسی سیال میں مکمل یا جزوی طور پر ڈبویا جاتا ہے تو اس پر ایک اوپر کی سمت قوت عمل کرتی ہے، اور یہ قوت جسم کے ذریعہ بے دخل کیے گئے سیال کے وزن کے برابر ہوتی ہے۔
SCERT سرگرمی میں واضح کیا گیا ہے کہ جسم پر عمل کرنے والی شناوری قوت بے دخل کیے گئے پانی کے وزن کے برابر ہوتی ہے۔
7. چھلکنے والا پانی
جب کوئی جسم پانی میں ڈالا جاتا ہے تو وہ پانی کے کچھ حصے کو اپنی جگہ سے ہٹا دیتا ہے۔ اس پانی کو چھلکنے والا پانی کہتے ہیں۔
8. لیکٹومیٹر
لیکٹومیٹر ایک ایسا آلہ ہے جو دودھ کی کثافت معلوم کرنے اور اس کی خالصیت کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ شناوری اور کثافت کے اصول پر کام کرتا ہے۔
⭐ تیرنا اور ڈوبنا
جسم کب تیرتا ہے؟
اگر جسم کی کثافت پانی سے کم ہو تو وہ عموماً پانی پر تیرتا ہے۔
{کثافتِ جسم}<\{کثافتِ پانی}
{جسم تیرے گا}
جسم کب ڈوبتا ہے؟
اگر جسم کی کثافت پانی سے زیادہ ہو تو وہ پانی میں ڈوب جاتا ہے۔
{کثافتِ جسم}>\{کثافتِ پانی}
{جسم ڈوبے گا}}
مشاہدے میں لکڑی، پلاسٹک، ربڑ اور موم عموماً پانی پر تیرتے ہیں، جبکہ دھاتی سکے، چمچ اور پیپر کلپ ڈوبتے ہیں۔
⭐ نسبتی کثافت کے اہم نکات
- پانی کی نسبتی کثافت 1 لی جاتی ہے۔
- نسبتی کثافت 1 سے کم ہو تو مادہ پانی سے ہلکا ہے۔
- نسبتی کثافت 1 سے زیادہ ہو تو مادہ پانی سے زیادہ کثیف ہے۔
- نسبتی کثافت کی کوئی اکائی نہیں ہوتی۔
- نسبتی کثافت کے ذریعے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جسم تیرے گا یا ڈوبے گا۔
یاد رکھنے کا آسان طریقہ:
RD < 1 → تیرے گا
RD > 1 → ڈوبے گا
RD = 1 → تقریباً معلق حالت
⭐ قوت اچھال کے اہم نکات
- مائع میں ڈوبے ہوئے جسم پر قوت اچھال اوپر کی سمت عمل کرتی ہے۔
- قوت اچھال جسم کے بے دخل کیے ہوئے مائع کے وزن سے متعلق ہے۔
- اگر اچھال قوت جسم کے وزن کے برابر ہو تو جسم تیر سکتا ہے۔
- تیرتے ہوئے جسم کے لیے:
\{ قوت اچھال}={جسم کا وزن}
ڈوبنے والے جسم کے لیے جسم کا وزن قوت اچھال سے زیادہ ہوتا ہے۔
⭐ شکل کا تیرنے پر اثر
صرف مادے کی نوعیت ہی نہیں بلکہ جسم کی شکل بھی تیرنے پر اثر انداز ہوتی ہے۔
مثال:ٹھوس لوہے کا ٹکڑا ڈوب سکتا ہے۔
- لیکن کھوکھلی دھاتی کشتی پانی پر تیر سکتی ہے۔
- اس کی وجہ یہ ہے کہ کشتی زیادہ پانی بے دخل کرتی ہے اور اس پر مناسب قوت اچھال پیدا ہوتی ہے۔
⭐ اہم فارمولے
1. کثافت
[\boxed{\rho=\frac{m}{V}}]
جہاں:
- (\rho) = کثافت
- (m) = کمیت
- (V) = حجم
2. نسبتی کثافت
[\boxed{RD=\frac{\text{کثافتِ مادہ}}{\text{کثافتِ پانی}}}]
سرگرمی میں اسے جسم کے وزن اور برابر حجم کے پانی کے وزن کے تناسب سے بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
3. ارشمیدس کا اصول
[ قوت اچھال/{ چھلکنے والا پانی کا وزن}}]
⭐ لیکٹومیٹر کے اہم نکات
- لیکٹومیٹر دودھ کی کثافت معلوم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
- یہ اچھال کے اصول پر کام کرتا ہے۔
- خالص دودھ کی ایک مخصوص کثافت ہوتی ہے۔
- دودھ میں پانی ملانے سے اس کی کثافت کم ہوجاتی ہے۔
- اس وجہ سے لیکٹومیٹر مختلف سطحوں پر تیرتا ہے۔
- لیکٹومیٹر کے ذریعے دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
📌 بہت اہم نکات
- پانی جسم پر اوپر کی سمت قوت اچھال لگاتا ہے۔
- جسم کے تیرنے یا ڈوبنے میں کثافت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
- پانی کی کثافت تقریباً 1 g/cm³ ہے۔
- کثافت پانی سے کم → تیرنا
- کثافت پانی سے زیادہ → ڈوبنا
- نسبتی کثافت 1 سے کم → پانی سے کم کثیف
- نسبتی کثافت 1 سے زیادہ → پانی سے زیادہ کثیف
- نسبتی کثافت کی کوئی اکائی نہیں۔
- تیرتے ہوئے جسم کے لیے شناوری قوت اور وزن برابر ہوتے ہیں۔
- ارشمیدس کے اصول کے مطابق شناوری قوت = بے دخل کیے گئے پانی کا وزن۔
- جسم کی شکل اور حجم بھی اس کے تیرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں۔
- کھوکھلی دھاتی کشتی اس لیے تیر سکتی ہے کہ وہ کافی پانی بے دخل کرتی ہے۔
- لیکٹومیٹر دودھ کی کثافت اور خالصیت جانچنے میں مدد دیتا ہے۔
📝 انتہائی مختصر خلاصہ
تیرنے والے اجسام کے سبق میں یہ مطالعہ کیا جاتا ہے کہ مختلف اجسام پانی یا کسی مائع میں کیوں تیرتے یا ڈوبتے ہیں۔ جسم پر مائع کی طرف سے اوپر کی سمت لگنے والی قوت کو شناوری قوت کہتے ہیں۔ جسم کا تیرنا یا ڈوبنا اس کی کثافت، شکل اور بے دخل کیے گئے مائع سے متعلق ہے۔
اگر جسم کی کثافت پانی سے کم ہو تو وہ عموماً تیرتا ہے، جبکہ زیادہ کثافت کی صورت میں ڈوب جاتا ہے۔ ارشمیدس کے اصول کے مطابق کسی مائع میں ڈوبے ہوئے جسم پر عمل کرنے والی قوت اچھال جسم کے ذریعہ بے دخل کیے گئے مائع کے وزن کے برابر ہوتی ہے۔
اس باب میں نسبتی کثافت بھی اہم ہے۔ نسبتی کثافت پانی کے مقابلے میں کسی مادے کی کثافت کا موازنہ کرتی ہے اور اس کی کوئی اکائی نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ لیکٹومیٹر کے ذریعے دودھ کی کثافت اور اس میں پانی کی ملاوٹ کا اندازہ لگانے کا عملی استعمال بھی بیان کیا گیا ہے۔
یاد رکھنے کا آسان سلسلہ:
کثافت → نسبتی کثافت → شناوری → شناوری قوت → بے دخل شدہ پانی → ارشمیدس کا اصول → تیرنا/ڈوبنا → لیکٹومیٹر
Post Comment