OBTAINING BEAM OF PARALLEL RAYS Class 10th Activity-2

سرگرمی 2

متوازی شعاعوں کا گچھا حاصل کرنا

اکتسابی محاصل

متعلم:

سورج کی شعاعوں کو متوازی شعاعوں کا گچھا تصور کرنے کی وجہ بیان کرتا ہے۔

مقصد

متوازی شعاعوں کا گچھا حاصل کرنا۔

درکار مواد

2 پنیں ‘تھرموکول بلاک

موم بتی ‘ماچس

تعارف

ہمارے قریب موجود منبعِ نور سے نکلنے والی شعاعیں منتشر (Diverging) ہوتی ہیں۔ کروی آئینوں یا عدسوں کی فوکل لمبائی معلوم کرنے کے لیے ہمیں متوازی شعاعوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

بہت زیادہ فاصلے پر موجود منبعِ نور سے آنے والی شعاعوں کو متوازی شعاعیں تصور کیا جاتا ہے۔ اس بات کی تصدیق کے لیے ہم یہ تجربہ کرتے ہیں۔

نظریہ

متوازی شعاعوں کے درمیان عمودی فاصلہ ہر مقام پر یکساں رہتا ہے۔

احتیاطیں

تھرموکول بلاک میں لگائی گئی دونوں پنیں ایک دوسرے کے متوازی ہونی چاہئیں۔

منبعِ نور (موم بتی) مناسب شدت کی روشنی فراہم کرے، اس لیے مناسب سائز کی موم بتی استعمال کریں۔

بہتر ہے کہ یہ تجربہ تاریک کمرے میں کیا جائے تاکہ پنوں کے سائے واضح طور پر نظر آئیں۔

طریقۂ کار

1.تھرموکول بلاک میں دو پنیں اس طرح لگائیں کہ وہ ایک دوسرے کے متوازی ہوں۔

2.جلتی ہوئی موم بتی کو ان پنوں کے قریب اس طرح رکھیں کہ موم بتی دونوں پنوں سے یکساں فاصلے پر ہو۔

3.پنوں کے سائے کا مشاہدہ کریں۔

4. موم بتی کو پنوں سے دور لے جائیں اور پنوں کے سائے کا مشاہدہ کریں۔

مشاہدات

1. جب منبعِ نور پنوں کے قریب ہوتا ہے تو پنوں کے سائے منتشر ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

2. جیسے جیسے منبعِ نور کو پنوں سے دور لے جایا جاتا ہے، انتشار کا زاویہ کم ہوتا جاتا ہے اور سائے متوازی دکھائی دیتے ہیں۔

نتیجہ

1. دور فاصلے پر موجود منبعِ نور متوازی نوری شعاعیں فراہم کرتا ہے۔

اخذِ نتیجہ (Conclusion)

1. متوازی شعاعوں کا گچھا حاصل کرنے کے لیے منبعِ نور کا بہت دور ہونا ضروری ہے۔

2. منبعِ نور کی شدت کافی ہونی چاہیے تاکہ روشنی مناسب شدت کے ساتھ ہم تک پہنچ سکے۔

اعلیٰ سطحی سوچ کے سوالات (HOTS) اور جوابات

سوال 1: کیا ہم چاند کو متوازی شعاعوں کے منبع کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب:جی ہاں۔ چاند ہم سے بہت زیادہ فاصلے پر واقع ہے، اس لیے چاند سے آنے والی روشنی کی شعاعوں کو تقریباً متوازی تصور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم چاند خود منبعِ نور نہیں بلکہ سورج کی روشنی کو منعکس کرتا ہے۔

توسیعی سرگرمی (Extended Learning Activity)

1. دھوپ والے دن دوپہر کے وقت ایک درسی کتاب یا نوٹ بک کو زمین کے متوازی پکڑیں۔

2. کتاب کو زمین کے قریب لے جائیں۔

3. کتاب کے سائے کے سائز کا مشاہدہ کریں۔ ایک لکڑی کی مدد سے زمین پر سائے کی حدود نشان زد کریں۔

4. اب کتاب کو آہستہ آہستہ سورج کی طرف اوپر لے جائیں۔

5. کتاب کو سورج کی طرف لے جاتے وقت اس کے سائے کے سائز کا مشاہدہ کریں۔

مشاہدہ : کیا آپ کو کتاب کے سائے کے سائز میں کوئی تبدیلی نظر آتی ہے؟ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟

نتیجہ : کتاب کو سورج کی طرف اوپر لے جانے پر اس کے سائے کے سائز میں بہت کم یا تقریباً کوئی تبدیلی نہیں آتی۔

وجہ : سورج ہم سے بہت زیادہ فاصلے پر واقع ہے، اس لیے اس سے آنے والی شعاعیں تقریباً متوازی ہوتی ہیں۔ متوازی شعاعوں کی وجہ سے کتاب اور زمین کے درمیان فاصلے میں تبدیلی سائے کے سائز پر نمایاں اثر نہیں ڈالتی۔

اخذِ نتیجہ : سورج سے آنے والی روشنی کی شعاعوں کو متوازی شعاعیں تصور کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائے کا سائز تقریباً یکساں رہتا ہے، اگرچہ کتاب کو سورج کی سمت اوپر یا نیچے کیا جائے۔

You May Have Missed