COMPRESSIBILITY-9th class

سرگرمی :3

ایجاز پذیری (Compressibility)

اکتسابی محاصل(Learning Outcomes)

طالب علم:

  • مختلف مادّوں (مثلاً ٹھوس، مائع اور گیس) کی ایجاز پذیری کا موازنہ کرتا ہے۔
  • مادّوں کو ان کی ایجاز پذیری کی بنیاد پر درجہ بندی کرتا ہے۔
  • روزمرہ زندگی کی اشیاء (جیسے LPG، CNG، ہوائی کشن، ہائیڈرولک نظام وغیرہ) میں ایجازپذیری کے کردار کو بیان کرتا ہے۔

مقصد (Aim)

گیسوں، مائعات اور ٹھوس اجسام کی ایجازپذیری معلوم کرنا۔

درکار  اشیاء (Material Required)

  • 50 ملی لیٹر سرنج،50 ملی لیٹر پانی، لکڑی کا ایک ٹکڑا

تعارف (Introduction)

ایجاز پذیری (Compressibility) کسی مادّے (ٹھوس، مائع یا گیس) کی وہ خصوصیت ہے جس کے ذریعے دباؤ لگانے پر اس کے حجم میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

  • گیسیں بہت زیادہ سکڑ پذیر ہوتی ہیں۔
  • مائعات تھوڑی بہت سکڑ پذیر ہوتی ہیں۔
  • ٹھوس اجسام سب سے کم سکڑ پذیر ہوتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر (Precautions)

  1. 50 ملی لیٹر کی سرنج استعمال کریں جس میں سوئی نہ لگی ہو۔
  2. ہوا کے ساتھ تجربہ کرتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرنج سے ہوا خارج نہ ہو اور کوئی رساؤ (Leakage) نہ ہو۔

طریقۂ کار (Procedure)

کیس 1: گیس (ہوا) کی ایجاز پذیری

  1. 50 ملی لیٹر کی ایک سرنج لیں جس میں سوئی نہ لگی ہو۔پسٹن کو پیچھے کھینچ کر سرنج میں ہوا بھریں۔
  2. سرنج کے منہ (Nozzle) کو انگلی سے بند کریں اور پسٹن کو دبائیں۔

کیس 2: مائع (پانی) کی ایجاز پذیری

  1. سرنج میں پانی بھریں۔پسٹن کو دبائیں اور مشاہدہ کریں۔

کیس 3: ٹھوس (لکڑی) کی ایجاز پذیری

  1. لکڑی کا ایک ٹکڑا لیں۔اسے اپنے انگوٹھے سے زور لگا کر دبائیں اور مشاہدہ کریں۔
  2. مشاہدات (Observations)

    تینوں صورتوں میں سرنج کے پسٹن کے اندر جانے کی مقدار (گہرائی) کا مشاہدہ کریں۔

    1. کیس 1: گیس (ہوا)

    • آپ پسٹن کو آسانی سے اندر دھکیل سکتے ہیں۔
    • سرنج کے اندر موجود ہوا کا حجم کم ہو جاتا ہے۔

    2. کیس 2: مائع (پانی)

    • پسٹن کو دبانے پر کچھ مزاحمت محسوس ہوتی ہے۔
    • پانی بہت کم سکڑتا ہے۔

    3. کیس 3: ٹھوس (لکڑی)

    • لکڑی کو دبانا تقریباً ناممکن محسوس ہوتا ہے۔
    • اس کی وجہ یہ ہے کہ لکڑی ایک ٹھوس مادہ ہے اور اس کے ذرات بہت قریب قریب اور مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں۔

    نتیجہ (Conclusion)

    1.یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ گیسیں سب سے زیادہ سکڑ پذیر (Compressible) ہوتی ہیں۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ گیسوں کے ذرات ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر ہوتے ہیں، اس لیے دباؤ دینے پر وہ ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔

    2.مائعات بہت کم سکڑ پذیر ہوتی ہیں۔

    کیونکہ مائعات کے ذرات ایک دوسرے کے نسبتاً قریب ہوتے ہیں، اس لیے ان کے حجم میں بہت کم تبدیلی آتی ہے۔

    3.ٹھوس اجسام تقریباً ناقابلِ سکڑاؤ (Incompressible) ہوتے ہیں۔

    کیونکہ ان کے ذرات نہایت قریب اور مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں، اس لیے ان کا حجم تبدیل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

    اعلیٰ سطحی فکری سوالات (Higher Order Thinking Questions)

    1.اگر کسی گیس پر دباؤ بڑھا دیا جائے تو اس کے حجم میں کیا تبدیلی آئے گی؟

    جواب:جب گیس پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے تو اس کے ذرات ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں گیس کا حجم کم ہو جاتا ہے۔

    2.درجۂ حرارت گیسوں کی ایجاز پذیری کو کیسے متاثر کرتا ہے؟

    جواب:

    • درجۂ حرارت بڑھنے پر گیس کے ذرات تیزی سے حرکت کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں، اس لیے گیس کو سکڑنا نسبتاً مشکل ہو جاتا ہے۔
    • درجۂ حرارت کم ہونے پر ذرات کی حرکت سست ہو جاتی ہے اور وہ ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں، اس لیے گیس نسبتاً زیادہ آسانی سے سکڑ سکتی ہے۔

You May Have Missed